Monday, April 13, 2020

حضرت محمّد صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت مبارک

HAZRAT MUHAMMAD MUSTAFA SALLAL LAAHU ALAIHI WA SALLAM KI SEERAT .

PAIDAISH SAY 40 SAAL TAK.

Quraish Makka Mukarramah ka ek mashhoor qabila hai jo Ismail a.s . ki aulaad main say hai, qabila quraish main kayee baday baday khandaan thay un main ek khandaan Bani Hashim ka tha, Hashim apnay khandaan main baday muazzaz, sakhee aur mehman nawaz shaks thay, Hashim kay betay Shaiba hai jo abdul Muttalib say mashhoor huay, Abdul Muttalib kay betay Abdulllah hai, Abdullah apnay baap kay mehboob betay thay unki shaadi qabilay quraish hi kay ek baday gharanay main huyi inki biwi ka naam Aamina tha, Hazrat Bibi Aamina kay ghar ek bachcha paida hua jisnay andhayri duniya ko ujalay main badal diya Arab ki sooti bastiyon ko jaga diya, yehi woh bachcha hai jis ko duniya MUHAMMAD UR RASOOLUL LAAH SAWS kay naam say yaad karti hai, Arab kay dastoor kay mutabiq daayi Haleema nay Aap SAWS ko doodh pilaya. Aap SAWS jab 6 saal kay huay to aap SAWS ki walidah ka inteqaal hogaya aur aap SAWS kay us duniya main tashreef laanay say pahlay hi aap kay walid ka inteqaal hogaya tha aur aap 8 saal 2 mahinay 10 din kay huay to dada Abdul Muttalib ka bhi inteqaal hogaya. Phir aap SAWS kay chacha Abu Talib kay saath Mulk e shaam ka pahla safar kiya.Quraish kay loog aap SAWS ko ameen aur sadiq kehtay thay, isliye aap SAWS amanatdar aur sachchay thay Hazrat e Khadija (R.A) nay aap SAWS ko maal tijarat day kar mulk e shaam rawana kiya. aap SAWS nay poori amanatdari say tijarat ki aap SAWS kay akhlaq say woh bay had mutasir huyi , kuch arsa kay baad Hazrat e Khadija (R.A) nay nikaah ka paighaam bheja , aap SAWS na manzoor farmaya, nikaak kay waqt Huzoor SAWS ki umar 25 saal aur Hazrat 3 Khadija ki umar 40 saal thi, aap SAWS kayee- kayee din ka khaana - paani lay kar ek pahaad kay ghaar jis ka naam ghaar e hira tha tashreef layjaatay thay aur wahan Allah ki ibadat kartay thay.



Wednesday, April 8, 2020

منقول

                                  منقول 
 تنخواہ(پیسوں)کو مہینے کی آخری تاریخ تک بچانے کا نسخہ
(عربی سے ترجمہ شدہ)

یہ واقعہ ایک سعودی نوجوان کا ہے ، یہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں تها ، اس کی تنخواہ صرف چار ہزار ریال تهی ، شادی شدہ ہونے کی وجہ سے اس کے اخراجات اس کی تنخواہ سے کہیں زیادہ تهے ، مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی اس کی تنخواہ ختم ہو جاتی اور اسے قرض لینا پڑتا ، یوں وہ آہستہ آہستہ قرضوں کی دلدل میں ڈوبتا جارہا تها اور اس کا یقین بنتا جا رہا تها کہ اب اس کی زندگی اسی حال میں ہی گزرے گی - باوجودیکہ اس کی بیوی اس کے مادی حالت کا خیال کرتی ، لیکن قرضوں کے بوجھ میں تو سانس لینا بهی دشوار ہوتا ہے -
ایک دن وہ اپنے دوستوں کی مجلس میں گیا ، وہاں اس دن ایک ایسا دوست بهی موجود تها جو صاحب رائے آدمی تها اور اس نوجوان کا کہنا تها کہ میں اپنے اس دوست کے مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکهتا تها -
کہنے لگا : میں نے اسے باتوں باتوں میں اپنی کہانی کہہ سنائی اور اپنی مالی مشکلات اس کے سامنے رکهیں ، اس نے میری بات سنی اور کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ تم اپنی تنخواہ میں سے کچه حصہ صدقہ کے لیے مختص کرو - اس سعودی نوجوان نے حیرت سے کہا : جناب ، مجهے گهر کے خرچے پورے کرنے لیے قرضے لینے پڑتے ہیں اور آپ صدقہ نکالنے کا کہہ رہے ہیں ؟
خیر میں نے گهر آ کر اپنی بیوی کو ساری بات بتائی تو بیوی کہنے لگی : تجربہ کرنے میں کیا حرج ہے ؟ ہوسکتا ہے اللہ جل شانہ تم پر رزق کے دروازے کهول دے -
کہتا ہے : میں نے ماہانہ 4 ہزار ریال میں سے 30 ریال صدقہ کے لیے مختص کرنے کا ارادہ کیا اور مہینے کے آخر میں اسے ادا کرنا شروع کردیا -
سبحان اللہ ! قسم کها کر کہتا ہوں ، میری تو حالت ہی بدل گئی ، کہاں میں ہر وقت مالی ٹینشنوں میں اور سوچوں میں رہتا تها اور کہاں اب میری زندگی گویا پهول ہو گئی تهی ، ہلکی پهلکی آسان ، قرضوں کے باوجود میں خود کو آزاد محسوس کرتا تها ، ایک ایسا ذہنی سکون تها کہ کیا بتاوں !
پهر چند ماہ بعد میں نے اپنی زندگی کو سیٹ کرنا شروع کیا ، اپنی تنخواہ کو حصوں میں تقسیم کیا ، اور یوں ایسی برکت ہوئی جیسے پہلے کبهی نہی  ہوئی تهی - میں حساب لگالیا اور مجهے اندازہ ہوگیا کہ کتنی مدت میں اِنشاءاللہ قرضوں کے بوجھ سے میری جان چهوٹ جائی گی -
پهر اللہ جل شانہ نے ایک اور راستہ کهولا اور میں نے اپنے ایک عزیز کے ساتھ اس کے پراپرٹی ڈیلنگ کے کام میں حصہ لینا شروع کیا ، میں اسے گاہک لاکر دیتا اور اس پر مجهے مناسب پرافٹ حاصل ہوتا -
الحمدللہ ! میں جب بهی کسی گاہک کے پاس جاتا وہ مجهے کسی دوسرے تک راہنمائی ضرور کرتا -
میں یہاں پر بهی وہی عمل دوہراتا کہ مجهے جب بهی پرافٹ ملتا میں اس میں سے اللہ کے لیے صدقہ ضرور نکالتا -

اللہ کی قسم ! صدقہ کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا ، سوائے اس کے جس نے اسے آزمایا ہو -
صدقہ کرو ، اور صبر سے چلو ، اللہ کا فضل سے خیر و برکتیں اپنی آنکهوں برستے دیکهو گے -

نوٹ :
1. جب آپ کسی مسلمان کو تنخواہ میں سے صدقہ کے لیے رقم مختص کرنے کا کہیں گے اور وہ اس پر عمل کرے گا تو آپ کو بهی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا صدقہ کرنے والے کو ملے گا ، اور صدقہ دینے والے کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی -

سوچیے !!!
 آپ اس دنیا سے چلے جائیں گے اور آپ کے سبب آپ کے پیچهے کوئی صدقہ کر رہا ہوگا !

2. ایسے ہی اگر آپ نے یہ رسالہ (میسج) آگے نشرکیا اور کسی نے صدقہ دینے کا معمول بنا لیا تو آپ کے لیے بهی صدقہ دینے والے کے مثل اجر ہے-
(جیسے میں نے اس میسج کو پڑھ کر صدقہ کرنے کا معمول بنایا ، اور قسم کها کر کہتا ہوں ، سب سے زیادہ فرق میری ذہنی حالت پر پڑا ، ایک ایسا اطمینان محسوس ہوتا ہے کہ جس کا جواب نہیں - مترجم)

میرے عزیز!!!
اگرچہ آپ طالب علم ہیں ، اور آپ کو لگابندها وظیفہ ملتا ہے تب بهی آپ تهوڑا بہت جتنا ہوجائے کچھ رقم صدقہ کے لیے ضرور مختص کریں -

اگر صدقہ کرنے والا جان لے اور سمجھ لے کہ اس کا صدقہ فقیر کے ہاتھ میں جانے سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں جاتا ہے تو یقینا دینے والے کو لذت لینے والے سے کہیں زیادہ ہو گی -

کیا آپ صدقہ کے فوائد معلوم ہیں ؟
خاص طور پر 17، 18، 19 کو توجہ سے پڑهیے گا -

سن لیں !
صدقہ دینے والے بهی اور جو اس کا سبب بنتے ہیں وہ بهی!!!

1. صدقہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے -
2. صدقہ اعمال صالحہ میں افضل عمل ہے ، اور سب سے افضل صدقہ کهانا کهلانا ہے -
3. صدقہ قیامت کے دن سایہ ہو گا ، اور اپنے دینے والے کو آگ سے خلاصی دلائے گا -
4. صدقہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو ٹهنڈا کرتا ہے ، اور قبر کی گرمی میں ٹهنڈک کا سامان ہے -
5. میت کے لیے بہترین ہدیہ اور سب سے زیادہ نفع بخش چیز صدقہ ہے ، اور صدقہ کے ثواب کو اللہ تعالی بڑهاتا رہتا ہے -
6. صدقہ مصفی ہے ، نفس کی پاکی کا ذریعہ ، اور نیکیوں کو بڑهاتا ہے -
7. صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کے چہرے کا سرور اور تازگی کا سبب ہے -
8. صدقہ قیامت کی ہولناکی کے خوف سے امان ہے ، اور گزرے ہوئے پر افسوس نہیں ہونے دیتا -
9. صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب اور سیئات کا کفارہ ہے -
10. صدقہ خوشخبری ہے حسن خاتمہ کی، اور فرشتوں کی دعا کا سبب ہے-
11. صدقہ دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے ، اور اس کا ثواب ہر اس شخص کو ملتا ہے جو اس میں کسی طور پر بهی شریک ہو -
12. صدقہ دینے والے سے خیر کثیر اور بڑے اجر کا وعدہ ہے -
13. خرچ کرنا آدمی کو متقین کی صف میں شامل کردیتا ہے ، اور صدقہ کرنے والے سے اللہ کی مخلوق محبت کرتی ہے -
14. صدقہ کرنا جود و کرم اور سخاوت کی علامت ہے -
15. صدقہ دعاوں کے قبول ہونے اور مشکلوں سے نکالنے کا ذریعہ ہے -
16. صدقہ بلاء (مصیبت) کو دور کرتا ہے اور دنیا میں ستر دروازے برائی کے بند کرتا ہے -
17. صدقہ عمر میں اور مال میں اضافے کا سبب ہے ،کامیابی اور وسعت رزق کا سبب ہے -
18.  صدقہ علاج بهی ہے ، دواء بهی اور شفاء بهی -
19. صدقہ آگ سے جلنے ، غرق ہونے، چوری اور بری موت کو روکتا ہے -
20. صدقہ کا اجرملتا ہے ، چاہے جانوروں اور پرندوں پر ہی کیوں نا ہو -
                                آخری بات .
بہترین صدقہ اس وقت یہ ہے کہ آپ اس میسج کو صدقہ کی نیت سے آگے نشر کر دیں -😊

Tuesday, April 7, 2020

حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے بارے میں حضور اکرمصلی اللہ علیہ و سلم کی بشارت


حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے بارے میں حضور اکرمصلی اللہ علیہ و سلم کی بشارت
مفسر قرآن شیخ جلال الدین سیوطی شافعی مصری رحمتہ اللہ ۸۴۹ھ – ۹۱۱ھ" نے اپنی کتاب "تبییض الصحیفۃ فی مناقب الامام ابی حنیفہ رحمتہ اللہ " میں بخاری و مسلم و دیگر کتب حدیث میں وارد نبی اکرم کے اقوال : " اگر ایمان ثریا ستارے کے قریب بھی ہو گا تو اہل فارس میں سے بعض لوگ اس کو حاصل کر لیں گے۔ "بخاری" اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس بھی ہو گا تو اہل فارس میں سے ایک شخص اس میں سے اپنا حصہ حاصل کرلے گا۔ "مسلم" اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہو گا تو اہل فارس میں سے ایک شخص اس کو حاصل کر لے گا "طبرانی" اگر دین ثریا ستارہ پر بھی معلق ہو گا تو اہل فارس میں سے کچھ لوگ اس کو حاصل کر لیں گے "طبرانی" ذکر کرنے کے بعد تحریر فرمایا ہے کہ میں کہتا ہوں کہ حضور اکرمصلی اللہ علیہ و سلم نے امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ"شیخ نعمان بن ثابت رحمتہ اللہ " کے بارے میں ان احادیث میں بشارت دی ہے اور یہ احادیث امام صاحب کی بشارت و فضیلت کے بارے میں ایسی صریح ہیں کہ ان پر مکمل اعتماد کیا جاتا ہے۔ شیخ ابن حجر الھیتمی المکی الشافعی رحمتہ اللہ"۹۰۹ھ – ۹۷۳ھ" نے اپنی مشہور و معروف کتاب " الخیرات الحسان فی مناقب امام ابی حنیفہ" میں تحریر کیا ہے کہ شیخ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ کے بعض تلامذہ نے فرمایا اور جس پر ہمارے مشائخ نے بھی اعتماد کیا ہے کہ ان احادیث کی مراد بلاشبہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ ہیں اس لئے کہ اہل فارس میں ان کے معاصرین میں سے کوئی بھی علم کے اس درجہ کو نہیں پہنچا جس پر امام صاحب رحمتہ اللہ فائز تھے۔
وضاحت : ان احادیث کی مراد میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے مگر عصر قدیم سے عصر تک ہر زمانہ کے محدثین و فقہاء علماء کی ایک جماعت نے تحریر کیا ہے کہ ان احادیث سے مراد حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ ہیں۔ علماء شوافع رحمتہ اللہ نے خاص طور پر اس قول کو مدلل کیا ہے جیسا کہ شافعی مکتبہ فکر کے دو مشہور جید علماء مفسر قرآن کے اقوال ذکر کئے گئے۔ 
حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کی تابعیت
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمتہ اللہ "جو فن حدیث کے امام شمار کئے جاتے ہیں" سے جب امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہکے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہنے صحابہ کرام کی ایک جماعت کو پایا ، اس لئے کہ وہ ۸۰ہجری میں کوفہ میں پیدا ہوئے اور وہاں صحابہ کرام میں سے حضرت عبداللہ بن اوفیرضی اللہ موجود تھے، ان کا انتقال اس کے بعد ہوا ہے۔ بصرہ میں حضرت انس بن مالکرضی اللہ تھے اور ان کا انتقال ۹۰ یا ۹۳ ہجری میں ہواہے۔ ابن سعدرحمتہ اللہ نے اپنی سند سے بیان کیا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ کہا جائے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہنے حضرت انس بن مالکرضی اللہ کو دیکھا ہے اور وہ طبقہ تابعین میں سے ہیں۔ نیز حضرت انس بن مالکرضی اللہ کے علاوہ بھی اس شہر میں دیگر صحابہ کرام اس وقت حیات تھے۔
شیخ محمد بن یوسف صالحی و مشقی شافعی رحمتہ اللہ نے " عقود الجمان فی مناقب الامام ابی حنیفہ رحمتہ اللہ" کے نویں باب میں ذکر کیا ہے کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ اس زمانہ میں پیدا ہوئے جس میں صحابہ کرام کی کثرت تھی۔
اکثر محدثین " جن میں امام خطیب بغدادی رحمتہ اللہ ، علامہ نووی رحمتہ اللہ ، علامہ ابن حجر رحمتہ اللہ ، علامہ ذہبیرحمتہ اللہ ، علامہ زین العابدین سخاوی رحمتہ اللہ ، حافظ ابو نعیم اصبہانی رحمتہ اللہ ، امام دار قطنیرحمتہ اللہ ، حافظ ابن البر رحمتہ اللہ اور علامہ ابن الجوزی رحمتہ اللہ کے نام قابل ذکر ہیں" کا یہی فیصلہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ نے حضرت انس بن مالکرضی اللہ کو دیکھا ہے۔
محدثین و محققین کی تشریح کے مطابق صحابی رسولرضی اللہ سے روایت کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ صحابی کا دیکھنا بھی کافی ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ نے تو صحابہ کرام کی ایک جماعت کو دیکھنے کے علاوہ بعض صحابہ کرام خاص کر انس بن مالکرضی اللہ سے احادیث روایت بھی کی ہیں۔
غرضیکہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہتابعی ہیں اور آپ کا زمانہ صحابہ ، تابعین تبع تابعین کا زمانہ ہے جس دور کی امانت و دیانت اور تقوی کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن کریم " سورہ التوبہ آیت نمبر ۱۰۰" میں فرمایا ہے۔ نیز نبی اکرم کے فرمان کے مطابق یہ بہترین زمانوں میں سے ایک ہے۔ علاوہ ازیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی حیات میں ہی حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے متعلق بشارت دی تھی ، جیساکہ بیان کیا جا چکا ہے جس سے حضرت امام اعظم ابو حنیفہرحمتہ اللہ کی تابعیت اور فضیلت روز روشن کی واضح ہو جاتی ہے۔

سوانح حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ


امام ابو حنیفہرحمتہ اللہ "نعمان بن ثابترحمتہ اللہ" ۸۰ھ – ۱۵۰ھ
حضرت امام ابو حنیفہرحمتہ اللہ کے مختصر حالات زندگی
آپ کا اسم گرامی نعمان اور کنیت ابو حنیفہ ہے۔ آپ کی ولادت ۸۰ھ میں عراق کے کوفہ شہر میں ہوئی۔ آپ فارسی النسل تھے۔ آپ کے والد کا نام ثابترحمتہ اللہ تھا اور آپ کے دادا نعمان بن مرزبان کابل کے اعیان و اشراف میں بڑی فہم و فراست کے مالک تھے۔ آپ کے پردادا مرزبان فارس کے ایک علاقہ کے حاکم تھے۔ آپ کے والد حضرت ثابترحمتہ اللہبچپن میں حضرت علیرضی اللہ کی خدمت میں لائے گئے تو حضرت علیرضی اللہ نے آپ اور آپ کی اولاد کے لئے برکت کی دعا فرمائی جو ایسی قبول ہوئی کہ امام ابو حنیفہرحمتہ اللہ جیسا عظیم محدث و فقیہ اور خدا ترس انسان پیدا ہوا۔
آپ نے زندگی کے ابتدائی ایام میں ضروری علم کی تحصیل کے بعد تجارت شروع کی لیکن آپ کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے علم حدیث کی معروف شخصیت شیخ عامر شعبی رحمتہ اللہ کوفی ۱۷ھ – ۱۰۴ھ" جنہیں پانچ سو سے زیادہ اصحاب رسولرضی اللہ کی زیارت کا شرف حاصل ہے، نے آپ کو تجارت چھوڑ کر مزید علمی کمال حاصل کرنے کا مشورہ دیا چنانچہ آپ نے اما شعبی رحمتہ اللہ کوفی کے مشورہ پر علم کلام، علم حدیث اور علم فقہ کی طرف توجہ فرمائی اور ایسا کمال پیدا کیا کہ علمی و عملی دنیا میں امام اعظم رحمتہ اللہ کہلائے۔ آپ نے کوفہ ، بصرہ اور بغداد کے بے شمار شیوخ سے علمی استفادہ کرنے کے ساتھ حصول علم کے لئے مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور ملک شام کے متعداد اسفار کئے۔
ایک وقت ایسا آیا کہ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کو ملک کے قاضی ہونے کا مشورہ دیا لیکن آپ نے معذرت چاہی تو وہ اپنے مشورہ پر اصرار کرنے لگا چنانچہ آپ نے صراحتہ انکار کر دیا اور قسم کھالی کہ وہ یہ عہدہ قبول نہیں کر سکتے، جس کی وجہ سے ۱۴۶ ہجری میں آپ کو قید کر دیا گیا۔ امام صاحب رحمتہ اللہ کی علمی شہرت کی وجہ سے قید خانہ میں بھی تعلیمی سلسلہ جاری رہا اور امام محمد رحمتہ اللہ جیسے محدث و فقیہ نے جیل میں ہی امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ سے تعلیم حاصل کی۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کی مقبولیت سے خوفزدہ خلیفہ وقت نے امام صاحب رحمتہ اللہ کو زہر دلوا دیا۔ جب امام صاحب رحمتہ اللہ کو زہر کا اثر محسوس ہوا تو سجدہ کیا اور اسی حالت میں وفات پا گئے۔ تقریبا پچاس ہزار افراد نے نماز جنازہ پڑھی، بغداد کے خیزران قبرستان میں دفن کئے گئے۔ ۳۷۵ھ میں اس قبرستان کے قریب ایک بڑی مسجد "جامع الامام الاعظمرحمتہ اللہ " تعمیر کی گئی جو آج بھی موجود ہے۔ عرض ۱۵۰ھ میں صحابہ و بڑے بڑے تابعین سے روایت کرنے والا ایک عظیم محدث و فقیہ دنیا سے رخصت ہو گیا اور اس طرح صرف اور صرف اللہ تعالی کے خوف سے قاضی کے عہدہ کو قبول نہ کرنے والے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا تاکہ خلیفہ وقت اپنی مرضی کے مطابق کوئی فیصلہ نہ کراسکے جس کی وجہ سے مولاء حقیقی ناراض ہو۔

دنیا میں آنے کا مقصد

                       دنیا میں آنے کا مقصد  



الحمد للہ وحدہ و الصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ
(البلد:4)
اللہ رب العزت نے دنیا میں ہمیں کھانے لیے نہیں بھیجابلکہ کمانے کے لیے بھیجا ہے۔دنیا کمانےکی جگہ ہے اور جنت کھانے کی جگہ ہے۔دنیا مشقت کی جگہ ہے اور آخرت آرام کی جگہ ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی وہ شخصیت ہیں جن کے صدقے اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو وجود دیا ہے۔غزوہ خندق کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ خندق کھود رہے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان سے یہ جملے ارشاد فرمارہے تھے:اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ۔۔۔ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ
(صحیح البخاری رقم الحدیث 6414)
اے اللہ! میرے انصارومہاجرین کی مغفرت فرما،اور ساتھ یہ تسلی بھی دے رہےتھے کہ عیش کی زندگی تو آخرت کی ہے نہ کہ دنیا کی۔جب یہ بات آدمی کے ذہن میں بیٹھ جائے تو آدمی کے لیے شریعت پر عمل آسان ہوجاتا ہے۔دیکھیں ایک کالج کا لڑکا ہےجو کہ بالکل نہیں پڑھتا ،مگر بعض اوقات وہ رات دو دوبجے تک جاگ کر پڑھتا ہے۔ کہتا ہے کہ کل میرا امتحان ہے ۔اسے پتہ ہے اب محنت کروں گا تو پاس ہوں گا۔پاس ہوں گا تو نوکری ملے گی۔تواس کو نوکری کا علم ہے اس لیے رات کو جاگتا ہے۔ ہمیں رات کے جاگنے پر کیا ملے گا؟ اس کا علم نہیں ہے۔دنیا کے لوگوں کو علم ہے کہ محنت کریں گے تو کچھ حاصل ہوگا مگر ہم کو علم نہیں کہ ہم محنت کریں گے تو ہماری آخرت بنے گی۔مجھے آج ایک ساتھی مذاق میں کہنے لگا کہ حضرت آج بڑی سپیڈ لگی ہوئی ہے۔ میں نے کہا جب وقت تھوڑا ہو اور کام زیادہ ہو تو سپیڈ تو لگتی ہی ہے ۔ ہماری زندگی بہت تھوڑی ہے اور ایک بارملی ہے باربار نہیں ملتی۔تو اس میں جتنی محنت ہوسکتی ہے کریں، کیونکہ ہمارا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کے ساتھ ہےاور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کسی ایک علاقے کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے تشریف لائے ہیں۔
اب ہم پوری دنیا میں شاید نہ جاسکیں لیکن پوری دنیا سامنے تو رکھنی چاہیے،کیونکہ جتنا ہمارا جذبہ ہوگا اور محنت ہوگی اسی کی نسبت اللہ تبارک وتعالی کی مدد اترے گی۔تو میں گزارش کررہا ہوں کہ ہم دنیا میں کام کے لیے آئے ہیں ۔کام ہی ہمارا مزاج بن جائے ۔ آپ کسی طالب علم سے پوچھتے ہیں کلاس میں کیوں نہیں آئے ؟وہ کہتا ہے مجھے نزلہ ہے،کوئی کہتا ہے میرے سر میں درد ہے اور اگر مزدور کو نزلہ یا سر کا درد ہو تو وہ کام پر آتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ میں جاؤں گا، کام کروں گا تو کچھ ملے گا۔تو وہ کام کرتا ہے اور ہم کام میں سستی کرتے ہیں ۔ یاد رکھیں یہ کام دنیا میں چل جاتاہے مگر آخرت میں یہ معاملہ نہیں چلتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى
( النجم:39)
جو کیا ہوگا وہی ملنا ہے،وہی آگے جاکر وصول ہوگا۔
میں یہ گزارش اس لیے کرتا ہوں کہ آج ہم نے سمجھ رکھا ہے کہ گناہوں سے بچنا بہت مشکل ہے ۔حالانکہ گناہ سے بچنا بہت آسان ہے۔اللہ تعالیٰ مشکل احکام بندے کو دیتے ہی نہیں، اللہ وہی حکم دیتے ہیں جو بندے کے بس میں ہو۔
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا
(البقرۃ:286)
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر آدمی زنا کرنے لیے عورت پر بیٹھ چکا ہو تو اس وقت بھی حکم ہے کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔اگر کسی بندے کے بس میں نہ ہوتا تو اللہ حکم ہی نہ دیتے ۔ معلوم ہوا کہ ایسی حالت میں بھی بچنا بندہ کے اختیار میں ہے۔ جب اللہ دل میں آجاتاہے تو بندہ گناہ سے بچنے کے راستے تلاش کرتا ہے۔انسان کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے گناہوں سے بچا ہی دیتے ہیں۔ آپ محنت کرکے تو دیکھیں، اللہ یوں نوازتا ہے کہ بندہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ آپ گناہوں سےبچنے کا ارادہ کریں خدا کی قسم اللہ گناہوں بچنے کے اسباب دے گا۔ اللہ رب العزت بہت کریم ذات ہے۔ اللہ تعالیٰ بندہ کو محروم نہیں کرتے بس کبھی ہماری محنت صحیح نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ
(البلد:4)
ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا۔ کبھی لوگ کہتے ہیں کہ مدرسہ ہے اسباب نہیں ،میں نوکری کرتا ہوں گزارہ نہیں چلتا۔ تومیں کہتا ہوں کیوں نہیں چلتا؟ آپ تھوڑا اخراجات کنٹرول تو کریں ۔دنیا توکمانے کی جگہ ہے کھانے کی جگہ تھوڑا ہی ہے۔حرام کھانے کو چھوڑیں اور حلال کی چٹنی کھائیں، حرام کے مرغ چھوڑیں حلال کی دال کھائیں۔اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو روزہ رکھیں، مگر طے کریں کہ میں نے گناہ نہیں کرنا۔کچھ عرصہ لگے گا اللہ تعالی پھر وسعت کے ساتھ دروازے کھول دیں گے۔بندہ ہمت کرے تو اللہ اتنے اسباب عطاء فرماتے ہیں کہ بندہ سوچ بھی نہیں سکتا۔
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ
(البلد:4)
ہم نے بندے کو مشقت میں پیدا کیا۔ ہم چاہتے ہیں کام کریں تکلیف نہ ہو،مصیبت نہ آئےاور مال ہی مال ہو۔ ہماری یہ خواہش ہوتی ہے کہ محنت نہ کریں لیکن پیسہ ہی پیسہ ہو۔ فرمایا نہیں خدا نے مشقت میں پیداکیا ہے ، تکلیفیں تو آنی ہیں۔ ہاں کبھی اگر راحت مل جائے تو اس پر توبندہ کو غور کرنا چاہیے لیکن مشقت ملے تو یہ مزاج دنیا ہے اس میں کیا تعجب کرنے کی ضرورت ہے،مشقت میں آدمی کو پریشان نہیں ہونا چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگنی چاہیے۔
میں ایک مثال دیتا ہوں کہ ایک مزدور روزانہ 8 گھنٹے کام کرے، مشقت کرے،اینٹیں اٹھائے تو بتائیں اسے پسینہ آناچاہیے کہ نہیں ؟ [سامعین: آنا چاہیے]تو جو مزدور کہے میں نے8گھنٹے مزدوری کی ہے اور مجھے پسینہ نہیں آیا، تو مولانا کہیں گے : نئیں پتر تو کسی حکیم نوں چیک کرا [نہیں بیٹے آپ کسی حکیم کو چیک کرائیں] پسینہ نہ آئے یہ عیب ہے،خوبی نہیں ہے۔یہ باتیں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ایک مولانا جو بہت جسیم تھے فرمانے لگے: اللہ کا شکر ہے 10سال سے کوئی بیماری نہیں آئی۔ میں نے کہا آپ کسی خانقاہ سے رابطہ کریں۔کہیں آپ گناہ میں ملوث تو نہیں ہیں،کہ اللہ نے ڈھیل دے رکھی ہے۔ جب آدمی بیمار ہی نہ ہو تو جری ہوکر گناہ کرتاہے اور تھوڑی سی بیماری آجائے تو سارے پچھلے گناہ یاد آجاتے ہیں اور ایک ایک کو یاد کرکے معافی مانگتا ہے اور جب آدمی کسی نیکی کا واسطہ دیتا ہے تو اللہ تعالی آسانی فرماتے ہیں۔
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا
)جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے آسانی فرما دیتے ہیں(دنیا میں مشقت ہویہ عیب نہیں، دنیا مشقت نہ ہو یہ عیب ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أَشَدُّ الناس بَلاَءً الأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ
(مسند البزار ج 3ص349 رقم الحدیث1150)
فرمایا کہ دنیا میں سب سے زیادہ تکالیف انبیاء پر آتی ہیں پھرجو ان کے قریب ہیں ان پر۔امی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری حسرت ہوتی تھی کہ جب مروں تو مرتے وقت تکلیف نہ ہولیکن جب میں نبی علیہ السلام کی تکلیف دیکھی ہے تو یہ تمنا چھوڑ دی ہے۔ حضور علیہ السلام کی تکلیف کیسی تھی؟روایات میں آتا ہے کہ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف بڑھی تو دو آدمیوں کے کندھوں کے سہارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تشریف لاتے تھے، اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ اٹھا کر دیکھتے کہ جو جماعت میں نے تیار کی ہے وہ نماز پڑھ رہی ہے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تیار کردہ جماعت نماز پڑھتی ہو گی تو آپ علیہ السلام کا دل کتنا ٹھنڈا ہوتا ہو گا کہ جو فوج میں نے تیار کی ہے اس کا رزلٹ اللہ مجھے دنیا میں اپنی آنکھوں سے دکھا رہا ہے۔
اس پر میں ایک بات سناتا ہوں ۔مجھے ایک ساتھی کہنے لگا کہ یہ جو ہمارا عقیدہ ہے کہ اگرہم یہاں سے صلوۃ وسلام پڑھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فرشتے پہنچا دیتے ہیں اور جب روضہ مبارک کے پاس پڑھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود سنتے ہیں۔ کہنے لگا کہ میرا ایک سوال ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مکہ میں مذاکرات کرنے کے لیے گئے تھےاور حضور صلی اللہ علیہ وسلم مقام حدیبیہ میں تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مشرکین نے وہاں گرفتار کرلیا،اور مشہور ہوگیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو کہا بیعت کرو ، ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ خون سےلیں گے۔ تو جب نبی کا خون گرتا ہے توانتقام خدا لیتا ہےجب صحابی کا خون گرتا ہے انتقام نبی لیتا ہے،کیونکہ نبی نمائندہ خدا کا ہے اور صحابی نمائندہ مصطفی کا ہے۔تو وہ ساتھی کہنے لگے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید تونہیں ہوئے تھے،نماز بھی پڑھتے ہوں گے؟ میں نے کہا :ہاں۔ کہنے لگے درود بھی پڑھتے ہوں گے؟ میں نے کہا: ہاں ۔کیا نبی علیہ السلام پر بھی وہ درود پیش ہوتا تھا ؟میں نے کہا نہیں۔جب نبی علیہ السلام اس دنیا میں زندہ تھے صلاۃوسلام اور امت کے اعمال کے پیش ہونے کی ضرورت نہیں تھی ۔ اس لیے کہ اگر میں مدرسہ میں موجود ہوں تو میں دیکھ رہا ہوں کہ طالبعلم پڑھ رہے ہیں ،کام کررہے ہیں، اب یہاں پر مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔ہاں اگرمیں بیرون ملک چلاجاؤں تو میں پوچھوں گا کتنے طلبہ ہیں؟ کیسا پڑھتے ہیں ؟وغیرہ وغیرہ۔تو جب نبی علیہ السلام اس دنیا میں تھے تو امت کے اعمال کا مشاہدہ کررہے تھے، عرض اعمال کی ضرورت نہ تھی اور جب نبی علیہ السلام دنیا چھوڑ گئے تو اب عرض اعمال کی ضرورت ہے ۔
تو میں بات کہہ رہا تھا لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ کہ دنیا میں مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔ انسان گناہ نہ کرے اس کے لیے بھی مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔بعض ساتھی کہتے ہیں دعا کریں کہ گناہ کو دل ہی نہ کرے ۔میں کہتا ہوں کہ یہ دعا نہ کرو،یہ دعا کرو گے تو پھر کمال کون سا ہے؟؟ جون کا مہینہ ہو روزہ رکھوپیاس نہ لگے یہ کمال کون سا ہے ؟کمال تو یہ ہے کہ مہینہ گرمی کا ہے، پیاس شدت سے لگتی ہے ،ٹھنڈے پانی سے غسل کرتے ہیں، پانی منہ کے اندر نہیں جانے دیتے کیونکہ اللہ دیکھ رہا ہے یہ کمال ہے،اور جب پیاس ہی نہ لگے تو یہ کون سا کمال ہے؟گناہ کو دل کرے پھر بھی انسان گناہ نہ کرے یہ کمال ہے ،دل ہی نہ کرے پھر گناہ نہ ہو یہ کون سا کمال ہے؟اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ
(النور:30)
مؤمنین سے کہو کہ اپنی نظریں جھکائے رکھیں۔جب نظریں جھکائیں اور گناہ نہ کریں تو مشقت تو ہوگی۔جس کے مزاج میں غلاظت ہو وہ گناہ کے مواقع تلاش کرتا ہے اورجس کے مزاج میں غلاظت نہ ہو وہ گناہ نہیں کرتا۔ بس آج سےیہ طے کر لو کہ لاکھ نقصان ہو گناہ نہیں کرنا چاہے اس کے لیے کتنی ہی مشقت اٹھانی پڑے۔اللہ تعالی مجھے بھی اور آپ کو بھی گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرمائے، آمین۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔

Monday, April 6, 2020

KHATM-E-NUBUWWAT (15)

What is Khatm-e-Nubuwwat? 
                                                                

Khatm-e-Nubuwwat means that Hazrat Muhammad (P.B.U.H) is the Last of the Prophets. The process and routine of appointing Prophets and Messengers by Almighty Allah has been terminated, finished, ended, stopped, and sealed. None will be appointed as prophet after Hazrat Muhammad (P.B.U.H). His Prophethood will continue until the judgement day and the day after, only that person can claim to be a Muslim who believes in Khatm-e-Nubuwwat and confesses.
What is Qadiyanism (or so-called Ahmadiya)? Qadiyanism is a movement started in a town called Qadiyan in India by a man called Mirza Ghulam Ahmad (1839 - 1908). Initially, he declared himself as a Muslim writer; then he announced himself as a revivalist (Mujaddid); in 1891, he claimed to be the Promised Mehdi and the Promised Messiah; and in 1901, he proclaimed himself a prophet of God! In 1914 a split took place in the Qadiyani group with the accession of Mirza Bashiruddin Mahmood Ahmad, the 2nd successor; over definitions of doctrines forming the mainstream of Qadiani group. They are respectively known as Qadiani and Lahori sects. Both Qadianis group fraudulently claim to be one of the Muslim sects but infact they are unrighteous cult, kafir and non-muslim. Mirza Ghulam Qadiyani died on 26th May 1908 in Lahore (Pakistan) through illness being a victim of cholera. Mirza Ghulam was buried in a village of Qadiyan.
 
The Resolution of the Rabitah Al-Alam Al-Islami (Makkah) and Pakistan's constitutional amendment of 1974 declared the Qadianism (Qadianis and Lahoris) as non-Muslims.

Sunday, April 5, 2020

LOG APNI BIWI SAY ZINA KARAINGAY


ALLAH KHUSHIAN KAB DAITA HAY


حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو ، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا "
‏‏‏‏ ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے (جن کا نام حارث یا عبید یا کعب بن عاصم یا عمرو ہے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طہارت آدھے ایمان کے برابر ہے۔ اور «الحمد لله» بھر دے گا ترازو کو (یعنی اس قدر اس کا ثواب عظیم ہے کہ اعمال تولنے کا ترازو اس کے اجر سے بھر جائے گا) اور «سبحان الله» اور «الحمدلله» دونوں بھر دیں گے آسمانوں اور زمین کے بیچ کی جگہ کواگر ان کا ثواب ایک جسم کی شکل میں فرض کیا جائے اور نماز نور ہے اور صدقہ دلیل ہے اور صبر روشنی ہے اور قرآن تیری دلیل ہے۔ دوسرے پر یا دوسرے کی دلیل ہے تجھ پر (یعنی اگر سمجھ کر پڑھے اور فائدہ اٹھائے تو تیری دلیل ہے نہیں تو دوسرے کو فائدہ ہو گا اور تو محرم رہے گا)، ہر ایک آدمی (بھلا ہو یا برا) صبح کو اٹھتا ہے یا پھر اپنے تئیں آزاد کرتا ہے (نیک کام کر کے اللہ کے عذاب سے) یا برے کام کر کے اپنے آپ کو تباہ کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو ، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا "
‏‏‏‏ ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے (جن کا نام حارث یا عبید یا کعب بن عاصم یا عمرو ہے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طہارت آدھے ایمان کے برابر ہے۔ اور «الحمد لله» بھر دے گا ترازو کو (یعنی اس قدر اس کا ثواب عظیم ہے کہ اعمال تولنے کا ترازو اس کے اجر سے بھر جائے گا) اور «سبحان الله» اور «الحمدلله» دونوں بھر دیں گے آسمانوں اور زمین کے بیچ کی جگہ کواگر ان کا ثواب ایک جسم کی شکل میں فرض کیا جائے اور نماز نور ہے اور صدقہ دلیل ہے اور صبر روشنی ہے اور قرآن تیری دلیل ہے۔ دوسرے پر یا دوسرے کی دلیل ہے تجھ پر (یعنی اگر سمجھ کر پڑھے اور فائدہ اٹھائے تو تیری دلیل ہے نہیں تو دوسرے کو فائدہ ہو گا اور تو محرم رہے گا)، ہر ایک آدمی (بھلا ہو یا برا) صبح کو اٹھتا ہے یا پھر اپنے تئیں آزاد کرتا ہے (نیک کام کر کے اللہ کے عذاب سے) یا برے کام کر کے اپنے آپ کو تباہ کرتا ہے۔